Skip to main content

Posts

Hindu culture

The majority of Hindu in India follow a culture that many people find dirty, smelly, and backward. They often do not wash their hands after urinating and then cook food with the same dirty hands. Some even use animal urine in cooking and serve this to customers. We often see Hindu yogis and sadhus openly encouraging their followers to drink "Cow Urine", "Eat Cow Dung", bathe with Cow Urine, and wash their hands and mouth with it. Many innocent Hindus follow this advice. People around the world laugh at these practices and call them strange and unpleasant. Hindus are also often seen worshiping and touching the lingam (a symbol of the male organ) and then rubbing their hands on their faces as part of their religious rituals. They worship trees, snakes, monkeys, and donkeys. On religious occasions, they perform sexy dances and display nude or vulgar pictures of gods and goddesses on temple walls. Some sadhus walk completely naked in public, even in front of women ...
Biased Indian Police and Courts انڈین مسلمانو ! بھول جاؤ۔ ، انڈین سپریم کورٹ کے انصاف کو ۔ کیوں ہائی کورٹ کو یاد کر رہے ہو ؟ بھول جاؤ ۔ ان سے انصاف کی امید نہ کرو ، یہاں بے ایمان ، مسلم مخالف اور انصاف مخالف جج عدالت میں بیٹھے ہیں . مودی حکومت اور یوگی حکومت کی بات ہی نہ کرو ، یہ تو مسلم مخالف ذھنیت والے ہیں ، اس کی جانبدار پولیس کیسے مسلمانوں کے حقوق کی حفاظت کریں گے ؟ ان مسلم دشمن حالات میں انڈیا کے Constitution کو بھول جاؤ ۔ لگتا ہے سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے جج بھی RSS ، BAJRANG DAL کے Hindatava ایجنڈے اور ذہنیت کے جج ہیں ، مسلم دشمنی کے حامل جج ہیں ۔ بھول جاؤ ۔ کہہ سپریم کورٹ مسلمانوں کے ساتھ انصاف کرے گی۔ یہ مسلمانوں کی مسجدوں کی کھدائی کروائیں گے ۔ مسلمانوں کی مسجدوں پر قبضہ کروائیں گے ۔ مسلم گھروں دکانوں ، جھگیوں پر بلڈوزر چلوائیں گے ۔ بے گناہ ، بے قصور مسلم جوانوں کو جیل میں ڈالیں گے ، ان کی ضمانت پر بھی رہائی نہیں ہونے دینگے ۔ سب سے بڑا ظلم یہ کہہ انڈیا کے جج صاحبان نے مسلمانوں کے کروڑوں ووٹ الیکشن کی لسٹوں سے کٹوا Delete کروا دیے ، ان ججوں نے مسلمانوں کی کوئی فر...

IUML win

جہاں جہاں IUML انڈین یونین مسلم لیگ جیتی ہے ، امید ہے وہاں اس کو B-Team کہنے والے جاہل موجود نہیں ہونگے ، یا بہت کم ہونگے اور وہاں مدنی برادران جیسے علماء بھی نہیں ہونگے ، جو اپنی سیاسی کم علمییت اور وصول سوچ کی وجہ سے مسلمانوں کو طاقت میں آنا اور سیاست میں آنا پسند نہیں کرتے ۔ یقیناً سب مسلمانوں نے اور دیگر سماج نے دل و جان سے ووٹ دیے ہونگے ۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو کامیابی عطا فرمائی ۔ شکر الحمدللہ کسی جگہ تو مسلمانوں نے اپنا کچھ وقار تو بنایا ۔ غلامانہ ذہنیت کو چھوڑا ۔ اپنی پارٹی کو B-Team نہ کہہ کر ، اس کی مدد کی ، ووٹ دیا اور سپورٹ کیا ۔جہاں جہاں IUML انڈین یونین مسلم لیگ جیتی ہے ، امید ہے وہاں اس کو B-Team کہنے والے جاہل موجود نہیں ہونگے ، یا بہت کم ہونگے اور وہاں مدنی برادران جیسے علماء بھی نہیں ہونگے ، جو اپنی سیاسی کم علمییت اور وصول سوچ کی وجہ سے مسلمانوں کو طاقت میں آنا اور سیاست میں آنا پسند نہیں کرتے ۔ یقیناً سب مسلمانوں نے اور دیگر سماج نے دل و جان سے ووٹ دیے ہونگے ۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو کامیابی عطا فرمائی ۔ شکر الحمدللہ کسی جگہ تو مسلمانوں نے اپنا کچ...

CM Aditya Nath Yogi Says," Bato gy to Kato gy"

CM Aditya Nath Yogi Says," Bato gy to Kato gy" Peaceful Muslims don't believe in it .... We Want Peace in country .... Muslims be United , forget your Differences ... Na Bato Gy Na Kato Gy ... Peaceful Raho gy .... کتنے ظلم کی بات ۔ سنبھل شاہی مسجد کے معاملے میں ۔ ہندو دھشتگرد ہتھیار بھالے لے آتے ہیں ، مسلمانوں کے خلاف نعرے لگاتے ہیں ۔ سنبھل مسجد کو نقصان پہنچاتے ہیں ۔ ان کو پولیس کچھ نہیں کہتی ۔ مسلمان اجتجاج کریں ، مسجد کی حفاظت کریں تو پولیس تشدد کرتی ہے ۔ بلاوجہ فائرنگ کر کے 5 مسلم لڑکے بھی انڈیا پولیس نے مسجد کے سامنے شہید کیے ، مسلمانوں کے احتجاج پر ، UP پولیس نے فائرنگ بھی مسلمانوں پر کی ، پولیس کی سیدھی فائرنگ سے 5 مسلمان لڑکے بھی شہید کیے ۔ لاٹھی چارج بھی کیا ، آنسو گیس کے شیل بھی مسلمانوں پر پھینکے ۔ زخمی بھی مسلمان ہوئے ۔ UP پولیس نے FIR بھی ہزاروں مسلمانوں کے خلاف درج کر دی ۔ گرفتار بھی مسلمان ہی کیے ۔ یعنی مسجد بھی مسلمانوں کی برباد ، مجرم بھی مسلمان ۔ واہ انڈیا گورنمنٹ ۔ واہ UP پولیس ۔ انڈین پولیس ، انڈین گورنمنٹ کی طرف سے اس ظلم برں...

Indian Government Officials , Police and Judiciary have Hostile and hatred Behavior Against Muslim Community ...

Indian Government Officials , Police and Judiciary have Hostile and hatred Behavior Against Muslim Community ... Fatal roit incidents of 16 April 2022 Delhi's, Jahangirpuri , 13 October 2024 Bahraich , 8 February 2024 Haldwani , 24 November 2024 survey of the Shahi Jama Masjid in Sambhal, Uttar Pradesh and many more incidents prove that Indian officials , Police and Judiciary have Hostile , Hatred, illegal and Unconstitutional Behavior Against Muslim Community ... Always Violence starts when a huge Hindu mob intentionally comes near mosque or Muslim areas. This Hindu Mob starts anti Islam anti Muslim Slogans in abusing manner without any fault on part of Muslim community. These type of nonsense acts slogans abusing take place in presence and with consent of Local police. The Hindu participants clearly know that police will favour them. Suddenly Hindu Goons of RSS , Bajrangdal , Shiva Sena hidden in Hindu jaloos start mischief by abusing & throwing stones on Muslims....

Places of Worship (Special Provisions) Act, 1991

"Places of Worship (Special Provisions) Act, 1991" of India, a law that essentially freezes the religious character of any place of worship as it existed on August 15, 1947, preventing any future conversion of religious sites, aiming to avoid communal conflicts over disputed religious places, particularly in the aftermath of the Ayodhya controversy. Why indian Lower courts are not obeying / following "Places of Worship (Special Provisions) Act, 1991" India ? Are the judges of lower courts , believe in RSS Hindutava Ideology that is against Muslims and Islam ? Why Indian Supreme Court not taking action against those civil judges , who are not following "Places of Worship (Special Provisions) Act, 1991" of India? Why these judges of lower indian courts are behaving as RSS Hindutava agents and inciting communal and religious conflicts by allowing illegal Survey of mosque or other places of worship, between Muslim and Hindu communities ? Why Indi...

INDIAN MUSLIMS MUST UNITE " BATO GAY TO KATO GAY " INDIAN MUSLIMS POOR POLITICAL STATUS AFTER 1947. FOR HONOUR AND DIGNITY IN INDIA VOTE & SUPPORT "AIMIM" OWAISI PARTY

INDIAN MUSLIMS MUST UNITE " BATO GAY TO KATO GAY " INDIAN MUSLIMS POOR POLITICAL STATUS AFTER 1947. FOR HONOUR AND DIGNITY IN INDIA VOTE & SUPPORT "AIMIM" OWAISI PARTY بھارت کی آزادی 15 اگست 1947 کے بعد بھارت میں رہ جانے والے مسلمان سیاسی میدان میں بالکل بے یارو مددگار رہ گئے ۔ کوئی بڑا مسلمان سیاسی لیڈر ایسا نہ ملا جو ان سب مسلمانوں کو اکٹھا رکھتا ، ان کو سیاسی اور معاشی شعور دیتا اور سیاست ، حکومت ، عدلیہ ، انتظامیہ میں اپنا حصہ بقدر آبادی لینے کا شعور دیتا ۔ اس طرح بھارتی مسلمان بھی دیگر اقوام کی طرح ساتھ مل کر بھارت کی ترقی میں مدد کرتے اور آگے بڑھتے۔ آزادی کے بعد زیادہ تر انڈیا کے مسلمان مذھبی علماء کے فرقہ وارانہ حلقہ اثر میں (چنگل میں)چلے گئے ۔ مختلف مدارس ، خانقاہوں میں بٹ گئے ۔ مذھبی علماء کی سیاسی بصیرت نہ ہونے کے برابر تھی ۔ ان علماء میں سے زیادہ علماء نے ہندو لیڈروں سے درپردہ رقوم رشوت لے کر ہندو لیڈروں کو ہی ووٹ دیے .ان علماء نے اپنے شاگردوں اور دوسرے سادہ ٹوپی پاجامہ والے مسلمانوں کو بھی ہندو سیاست دانوں کو ووٹ دین...

Interest free Pakistan

سود کا خاتمہ ، سود کے بغیر معیشت اور ملک چلانا ۔ دیوانے کا خواب ۔ واہ کیا سوچ ہے ، ملکی حالات سے لا علمی کی ۔ چلے ہیں سود ختم کرنے ! بھوکا ملک ، غریب ملک ، ذرائع آمدنی صفر ، عوام پر ٹیکس کا بوجھ ، ملک کا مکمل انحصار بیرونی قرضوں پر ۔ IMF کے قرض، امریکہ ، سعودی عرب , World Bank سے قرض کے بغیر ملک دس دن نہیں چل سکتا ۔ وہ ہمارے ماموں کے بیٹے ہیں جو آپ کو فری میں بغیر سود (Interest) کے اربوں ڈالر دیں گے ؟ کیوں ؟ بہت ایماندار حکمرانوں کا ملک ہے ؟ عجیب بچگانہ سوچ ہے لوگوں کی ، کہہ غیر ممالک ہمیں بغیر سود (Interest) کے قرض دیں گے ۔ اسلامی ملک کو لے کر بیٹھے رہو ۔ IMF ہمیں 1٪ پر قرض دیتا ہے ، جبکہ سعودی عرب 3٪ پر قرض دیتا ہے ۔ بڑا آسان ہے یہ کہنا کہہ ملک سے سود کا نظام ختم کیا جائے ۔ البتہ کرپشن لوٹ مار ختم ہو ، لوٹ مار کرنے والے حکمرانوں سے جان چھوٹے تو کچھ کم قرض لینا پڑے گا ۔ لیکن ان حالات میں سود (Interest) کے بغیر معیشت دیوانے کا خواب ہوگا۔

POLITICAL LEADERSHIP VS RELIGIOUS LEADERSHIP

Muslim Political Party.. مولانا صاحبان ، مدرسوں کے علماء اساتذہ ، درگاہوں کے متولی صاحبان ، آپ سب نے خود ساختہ مسلم سیاست سے کنارہ کشی کا نتیجہ دیکھ لیا ؟ ہندوستان کے مسلمان کے حالات دیکھو ! یہ سب تمہاری کمزوریاں ہیں ۔ مسلمانوں نے مار کھا لی ، لیکن ، ان ظالموں ، دھشتگردوں کو جواب نہیں دیا ۔ مولانا صاحبان انڈیا کے مسلمانوں کو صبر کرنے کی ہی ہدایت کرتے رہے ۔ مار کھاؤ ، صبر کرو ، موب لینچنگ ہوگئی صبر کرو ، خواتین کی بے حرمتی کر دی گئی ، صبر کرو ۔ مسجد کو ، مزارات کو نقصان پہنچایا ، قبضہ کیا ، صبر کرو ۔ دکان ، مکان ، پلازہ پر بلڈوزر چلادیا ، یا جلا دیا صبر کرو ۔ مولانا صاحبان نے مسلمانوں کو اس صبر کا پھل جنت دکھا دیا ۔ صبر کرو جنت ملے گی ۔ اور مسلم سماج جنت کے لالچ میں مار کھائے جا رہا ہے ۔ بزدل مولانا نے ساتھ یہ بھی سرٹیفکیٹ دے دیا ، کہہ یہ ظالم دھشتگرد دوزخ میں جائیں گے ۔ یہ بھولے سادہ مسلمان خوش ہو گئے ، آہا یہ ظالم لوگ جہنم میں جائیں گے ۔ ہندوستان کے سادہ لوح مسلمان ، جو ان مولانا کی بہت سنتے ہیں ، ان کی سن کر ، خاموش ہو گئے ۔ کہہ اب صبر کرنا لازم ہو ...

POLITICAL LEADERSHIP VS RELIGIOUS LEADERSHIP

POLITICAL LEADERSHIP VS RELIGIOUS LEADERSHIP سیاسی لیڈر بمقابلہ مذھبی علماء ، مدرسے کے عالم ،،،، مدرسے کے اساتذہ ، مساجد کے مولانا امام و درگاہی علماء وغیرہ ، مفسر ، محدث و دیگر دینی علوم کے ماہرین ۔ یہ سب ایک محدود سوچ کے حامل ہوتے ہیں ۔ اکثر اپنے فقہ کی ہی ترویج کرتے ہیں ۔ ان کو سیاست کے امور ، سیاسی داؤ پیچ ، دوسری جماعتوں ، گروہوں سے اتحاد کے امور سے واقفیت نہیں ہوتی ۔ زیادہ تر مولانا ، علماء بزدل ، اور حکمران وقت کے حاشیہ نشین ہوتے ہیں ۔ اکثر علماء حکومت وقت کے زر خرید بھی ہوتے ہیں ۔ حکومت کے خلاف بات کرنے کی ان مولاناؤں میں ہمت نہیں ہوتی ۔ اس بزدلی کم ہمتی کی وجہ سے یہ اپنے زیر سایہ طلباء ، معتقدین عوام کو بھی بزدلی کا ہی سبق دیتے ہیں ۔ کبھی اپنے شاگردوں کو دفاع کرنے کا بھی نہیں کہتے ۔ کبھی ظالم کے آگے کھڑا ہونے کا نہیں کہتے۔ مقابلہ کرنے کا نہیں کہتے۔ ملک حالات میں بھی یہی بزدلی کی صورتحال ہے ، موب لینچنگ ہو ، مسجدوں پر قبضہ ہو ۔ گھروں پر بلڈوزر چلتے ہوں ، خواتین کی بے حرمتی ہوتی ہو یہ مولانا اپنی نسلی بزدلی کی وجہ سے نہ احتجاج کرتے ہیں ۔ نہ جلسے ، نہ جلوس ، نہ ری...

RSS HINDTUVA mentalityy

RSS: HINDTUVA mentality against Indian Muslims. RSS: HINDTUVA TERRORISM 1947 کے بعد RSS اور دیگر سنگھٹن BajrangDal, Shiva Sena, VHP, Gao Rakhsha وغیرہ وغیرہ اور بہت سی ہندو تنظیمیں وجود میں آئیں ۔ ان کا ظاہری مقصد ہندو سماج کی فلاح و بہبود تھا ۔ ان میں سے RSS سمیت کچھ جماعت ہندوستان کی آزادی اور مہاتما گاندھی کے بھی خلاف تھیں ۔ لیکن در پردہ یہ تمام ہندو تنظیمیں مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے خلاف اور ان کو مٹانے کا کام کر رہی ہیں ۔ اکثر ہندو تنظیموں نے اپنے ہندو ممبران کو اپنے دفاع کے نام پر ٹریننگ بھی دی جاتی ہے ۔ پچھلے 75 سال میں ان کی ذھنی تربیت مسلمانوں کے خلاف ہی کی گئی ۔ اور یوں انڈیا میں ہندوؤں کی کئی نسلوں سے مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے خلاف برین واشنگ کی جاتی رہی ۔ جس کے اثرات اب کھل کر سامنے آ گئے ہیں ۔ یہ RSS ذھنیت والے ہندو دھشتگرد آئے روز مسلمانوں کی موب لینچنگ ، مسلم مخالف قوانین بنانا ، تشدد ، مار پیٹ ، قتل وغیرہ کرتے ۔ مسلمان گھروں پر حملے کرتے ۔ خواتین کی بے حرمتی کرتے ہیں ۔مساجد اور مزارات کی توڑ پھوڑ کرتے ۔ مسلم قبرستان پر قبضے۔ گائے کے بہانے مسلمان پر ...

Waqf Bill

ماشاءاللہ ماشاءاللہ ، وقف بل پر ہر طبقہ فکر کے جید علماء متحد ہوگئے ، ایک زبان ہو گئے ۔ یہ امت مسلمہ ہند کے لیے خوش آئیند بات ہے ۔ محترم بیرسٹر اسد الدین اویسی صاحب کے تمام علماء کے اجلاس میں اس وقف ترمیمی بل کے نقصانات تفصیل سے بتلائے ، علماء اور مسلم قوم کو سمجھ آئی ۔ پھر یہ email کا سلسلہ شروع ہوا ، 4 Cror چار کروڑ سے زیادہ email JPC کو جا چکی ہیں ، یہ بہت خوش آئیند بات ہے ، مسلم سماج کی یک جہتی نے آج مسلمانوں کو سیک نیا حوصلہ ولولہ دیا ۔ یہ کافی اچھا رزلٹ ہے مسلم عوام کی طرف سے ، انشاء اللہ یہ بل واپس ہو جائے گا ۔ اسی طرح مسلم سماج سیاسی پارٹی کے لیے اکٹھا ہو جائے ، ملک کی تقدیر بدل جائے گی ۔ کیا مسلم سماج نے اور علماء نے یہ سوچا کہہ یہ بل یا قانون کہاں بنےگا ؟ اگر ریجیکٹ ہوا تو کون ریجیکٹ کرے گا ؟ مسلمانوں کے خلاف یہ وقف ترمیمی بل اور دیگر مسلم سماج مخالفت بل کون پیش کرتا ہے ؟ اور کون پاس کرتا ہے ؟ یہ بل کسی جلسے عام میں نہیں ۔ کسی مدرسے میں نہیں ۔ کسی مولانا کے کہنے سے نہیں بنتا نہ ہی پاس ہو کر قانون بنتا ہے ۔ ہر طرح کے بل پارلیمنٹ میں اکثریت ممبران پارلیمنٹ کی منظوری سے...

INDIAN MUSLIMS POOR STATUS After 1947.

INDIAN MUSLIMS POOR STATUS After 1947. بھارت کی آزادی 15 اگست 1947 کے بعد بھارت میں رہ جانے والے مسلمان سیاسی میدان میں بالکل بے یارو مددگار رہ گئے ۔ کوئی بڑا مسلمان سیاسی لیڈر ایسا نہ ملا جو ان سب مسلمانوں کو اکٹھا رکھتا ، ان کو سیاسی اور معاشی شعور دیتا اور سیاست ، حکومت ، عدلیہ ، انتظامیہ میں اپنا حصہ بقدر آبادی لینے کا شعور دیتا ۔ اس طرح بھارتی مسلمان بھی دیگر اقوام کی طرح ساتھ مل کر بھارت کی ترقی میں مدد کرتے اور آگے بڑھتے۔ آزادی کے بعد زیادہ تر انڈیا کے مسلمان مذھبی علماء کے فرقہ وارانہ حلقہ اثر میں (چنگل میں)چلے گئے ۔ مختلف مدارس ، خانقاہوں میں بٹ گئے ۔ مذھبی علماء کی سیاسی بصیرت نہ ہونے کے برابر تھی ۔ ان علماء میں سے زیادہ علماء نے ہندو لیڈروں سے درپردہ رقوم رشوت لے کر ہندو لیڈروں کو ہی ووٹ دیے اور دوسرے سادہ ٹوپی پاجامہ والے مسلمانوں کو بھی ہندو سیاست دانوں کو ووٹ دینے کی تلقین کی ۔ یوں انڈیا میں مسلم قیادت اور پارٹی طاقتور صورت میں نہ آ سکی۔ گزستہ 75 سال سے پورے ہندوستان میں مسلمان ایک بے ہنگم ہجوم کی طرح رہے ۔ آئے روز کسی نہ کسی شہر میں علاقے اپنی Mob-lynching...

Deobandi Ulma ka siyasst sy door rehna

دیو بندی علماء اور دیگر مکتبہ فکر کے علماء حضرات کا ہندوستان کی سیاست میں بطور مسلم سماج ، حصہ نہ لینے کا جاہلانہ فیصلہ ۔۔۔ انڈیا کے مولانا حضرات کا انڈیا کی سیاست سے دور رہنے کا فیصلہ ۔ انڈین پارلیمنٹ میں مسلمان ممبران نہ بھیجنے کا جاہلانہ فیصلہ انڈین مسلمانوں کے لیے بہت نقصان کا باعث بنا ۔ ان علماء نے 30 کروڑ ہندوستانی مسلمانوں کو بھی اپنی مسلم سیاست نہ کرنے کا مشورہ دیا ۔ دوسرے لفظوں میں 30 کروڑ مسلمانوں کو غیر مسلم سیاستدانوں کی دریاں بچھانے ، ان کے زیر سایہ رہنے کا ہی مشورہ دیا ۔ اور یہ ان مولانا کا گھٹیا فیصلہ انڈین مسلمانوں کی بربادی کا فیصلہ ثابت ہوا۔ اس طرح ہندوستان کے مسلمان ہر شعبہ ہائے زندگی میں تنزلی میں چلے گئے ، نا قابل تلافی نقصان اٹھانا پڑ رہا ۔
افسوس ، مسلمانوں کی ہر روز کہیں نہ کہیں موب لینچنگ Mob lynching ہوتی رہتی ہے ۔ مسلمانوں سے " جے سری رام " کا نعرہ زبردستی کہلوایا جاتا ہے ۔ JSR نہ کہنے پر ہندو غنڈے اس مسلمان پر تشدد کرتے ہیں ، اور شدید زخمی کرتے ہیں ۔ اکثر ان تشدد کے واقعات میں مضروب مسلمان کی موت بھی ہو جاتی ہے ۔ مسلمان سماج بے بس ہو کر دیکھتا ہے ۔ انڈین پولیس بھی ہندو غنڈوں کا ہی ساتھ دیتی ہے اور مظلوم مسلمانوں کو ہی جیل میں ڈال دیتے ہیں ۔ انڈیا کے مولانا حضرات کا انڈیا کی سیاست سے دور رہنے کا فیصلہ ۔ انڈین پارلیمنٹ میں مسلمان ممبران نہ بھیجنے کا جاہلانہ فیصلہ انڈین مسلمانوں کے لیے بہت نقصان کا باعث بنا ۔ ان علماء نے 30 کروڑ ہندوستانی مسلمانوں کو بھی اپنی مسلم سیاست نہ کرنے کا مشورہ دیا ۔ دوسرے لفظوں میں 30 کروڑ مسلمانوں کو غیر مسلم سیاستدانوں کی دریاں بچھانے ، ان کے زیر سایہ رہنے کا ہی مشورہ دیا ۔ اور یہ ان مولانا کا گھٹیا فیصلہ انڈین مسلمانوں کی بربادی کا فیصلہ ثابت ہوا۔ اس طرح ہندوستان کے مسلمان ہر شعبہ ہائے زندگی میں تنزلی میں چلے گئے ، نا قابل تلافی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے علماء کرام کا تو...

Muslim RSS

ہندوستانی مسلمان اگر اپنی کوئی مسلم تنظیم ہندو " آر ایس ایس RSS " Bajrang Dal , Shive Sena کے مقابلے میں نہیں بنائیں گے ، اور غریب مسلمان کو نہیں سمجھائیں گے ۔ تو دوسری ہندو تنظیمیں ان مسلمانوں کو اپنی طرف راغب کریں گی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مسلمان ، مسلمان ہوتے ہوے RSS میں شمولیت اختیار کر رہے ہیں ۔ اور یہ صورتحال ہندوستانی مسلمان کے لیے باعث تشویش ہے ۔ علماء حضرات نے سیاسی اور معاشرتی امور پر زور نہیں دیا، بس مدرسہ تعلیم پر ہی زور دیتے رہے ، جبکہ ہندوؤں نے اپنی تنظیمیں ,RSS ، Bajrang Dal, Shive Sena جیسی متعدد بنا رکھی ہیں ۔ جو وقتاً فوقتاً مختلف حیلے بہانوں سے مسلمانوں ، عیسائیوں کا قتل عام کرتی رہتی ہیں ، مسلمانوں کے گھروں کو جلاتے ہیں ، ، خواتین کی بے حرمتی کرتے ہیں ۔ مسلمانوں نے ان کی زیادتیوں کے سد باب کے لیے اپنی کوئی مؤثر تنظیم نہیں بنائی۔ مدرسہ کلچر نے مسلمانوں کو اتنا بے بس بنا دیا کہ ۔مسلمان ہندو اکثریتی سیاسی جماعتوں کو ہی ووٹ دیتے چلے آئے۔ اپنی کوئی مظبوط اور موثر سیاسی جماعت نہ بنائی جس کی وجہ سے مسلمانوں کا حصہ انڈیا کی حکومت ، انتظامیہ ،...

Indian Muslims politics

Now Indian Muslims have Started understanding and following AIMIM Political Ideology. Indian Muslims are a depressed, poor community in India. Indian Muslims are very poor and illiterate in Political process. They haven't raised their own political party in last 75 years. Indian Muslims are under threat and fear of RSS, bajrang dal and BJP government supported torture and Cruallity They vote under fear. They also hesitate to Vote AIMIM. However now they are understanding need of Separate Political Party for Muslims for their Genuine Constitutional Rights.

Indian Muslims poor Political condition

Why Indian Muslims are so afraid of entering in politics of an independent political party AIMIM ? That is surprising. It has also been seen that Indian Muslims are afraid to comment on Facebook, Twitter, YOU TUBE. It seems that these Indian Muslims live under fear of radical anti-Muslim organizations like RSS, Shive Sena, RSS, Bajrang Dal or Fear of Mob-lynching and massacres of Muslims across India. They Can't openly give their comments and Political statements. Because of this fear and terror, most of the Muslim people have no knowledge of the political stakes. These Muslims seem to vote for Congress, BJP and other Hindu majority parties. They only fear that AIMIM party will not be able to form the government with less Muslim population and less votes. And other powerful political party will harm them, and so on. If they understand that small political parties also have a very important role in forming the government. So it can be very beneficial for Muslims...

Karachi Rights

حق لو کراچی کا ! حق دو کراچی کا !! کراچی کے حقوق اورسیاسی حصہ کی بحالی !!! کئی دہائیوں سے کراچی کا حال دیکھتے آ رہے ہیں ، کہ یہ کراچی والے ، زیادہ سیانے ، دسیوں گروپ ، جماعتیں ، اپنا اپنا راگ ۔ ریزہ ریزہ ، ٹکڑے ٹکڑے ، ایک ایک اینٹ کی مسجد ، سیاسی موت کے مترادف ہے ۔ یہ شہر 3 کروڑ آبادی کا شہر ہونے کے باوجود سیاسی ویلیو زیرو ، یعنی نہ ہونے کے برابر۔ چونکہ تمام کمیونٹی کے لوگ علیحدہ علیحدہ سیاست کرتے ہیں ، اکٹھا سیاسی مینڈیٹ ملتا نہیں ، صوبائی / وفاقی حکومت مناسب توجہ نہیں دیتی ۔ یوں ہر ایک منتخب رکن صرف اپنی اور اپنے اقربا کی ضروریات ہی پوری کر رہا ہے ۔ کراچی کے مسائل سے کوئی غرض نہیں۔ کراچی کے عوام نے ایم کیو ایم MQM کو بھی بھرپور مینڈیٹ دے کر دیکھ لیا ۔ انہوں نے بھی اپنی جہالت ہی دکھائی ۔ سیاسی جماعت کی بجائے پریشر گروپ کا کردار نبھایا ۔ اور اس MQM دور میں ، بات بات پر ہڑتال ، شہر بند ، لوٹ مار ، ٹارگٹ کلنگ ، اغوا ، بھتہ خوری ، بوری بند لاشوں ، چلتی ہوئی منافع بخش فیکٹری کارخانوں کو آگ لگانا ، زبردستی کے ووٹ لینے ، زبردستی کی جلسوں میں حاضری کروانا ، والا کلچر دیکھن...

Peshawar Bomb Blast

پشاور بم دھماکے کی مذمت ! ہم پشاور بم دھماکے اور پاکستان میں آئے روز ہونے والے دھماکوں کی پر زور مذمت کرتے ہیں ۔ پاک فوج اور سول سیکیورٹی اداروں کے جوانوں افسروں کے ناحق قتل (جسے ریاست شہید کا درجہ عطا کرتی ہے ) پر افسوس ہے ۔ زیادہ دھماکے KPK میں ہی پولیس اور دیگر سیکیورٹی اداروں پر ہی کیوں؟ افغانستان کا بارڈر پاکستان کے علاوہ اور بھی کئی ملکوں تاجکستان ، ترکمانستان اور ایران سے بھی لگتا ہے ۔ان ممالک میں تو دھشتگردی نہیں ہوتی ۔ کیونکہ ان ممالک نے ان افغان مہاجرین کو ان کی حیثیت کے مطابق ان کو سہی ٹھکانے پر کیمپوں میں رکھا ہوا ہے ، اس لیے ان ممالک میں آئے روز دھماکے نہیں ہوتے ! پاکستان میں چونکہ ان کو خصوصی مہمان کا درجہ دلوا رکھا ہے ، اور مہاجرین پاکستان میں کھلے سر عام پھرتے ہیں ، ان کی وجہ سے جرائم کی شرح بھی پڑھ گئی ہے ، اور لگتا ہے ان ہی کی معاونت سے سہولت کاری سے پاکستان کے طول وعرض میں یا صوبہ KPK میں آئے روز بم دھماکے ہو رہے ہیں ، کیوں ؟ یہ بات سوچنے والی ہے دھشتگردوں کے زیادہ سہولت کار KPK پاکستان میں ہی کیوں موجود ہیں ؟ اب تو دھشتگرد اسلام آباد تک بھی پہنچ گئے...