افسوس ، مسلمانوں کی ہر روز کہیں نہ کہیں موب لینچنگ Mob lynching ہوتی رہتی ہے ۔
مسلمانوں سے " جے سری رام " کا نعرہ زبردستی کہلوایا جاتا ہے ۔ JSR نہ کہنے پر ہندو غنڈے اس مسلمان پر تشدد کرتے ہیں ، اور شدید زخمی کرتے ہیں ۔ اکثر ان تشدد کے واقعات میں مضروب مسلمان کی موت بھی ہو جاتی ہے ۔ مسلمان سماج بے بس ہو کر دیکھتا ہے ۔ انڈین پولیس بھی ہندو غنڈوں کا ہی ساتھ دیتی ہے اور مظلوم مسلمانوں کو ہی جیل میں ڈال دیتے ہیں ۔
انڈیا کے مولانا حضرات کا انڈیا کی سیاست سے دور رہنے کا فیصلہ ۔ انڈین پارلیمنٹ میں مسلمان ممبران نہ بھیجنے کا جاہلانہ فیصلہ انڈین مسلمانوں کے لیے بہت نقصان کا باعث بنا ۔ ان علماء نے 30 کروڑ ہندوستانی مسلمانوں کو بھی اپنی مسلم سیاست نہ کرنے کا مشورہ دیا ۔
دوسرے لفظوں میں 30 کروڑ مسلمانوں کو غیر مسلم سیاستدانوں کی دریاں بچھانے ، ان کے زیر سایہ رہنے کا ہی مشورہ دیا ۔ اور یہ ان مولانا کا گھٹیا فیصلہ انڈین مسلمانوں کی بربادی کا فیصلہ ثابت ہوا۔ اس طرح ہندوستان کے مسلمان ہر شعبہ ہائے زندگی میں تنزلی میں چلے گئے ، نا قابل تلافی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے
علماء کرام کا تو ان واقعات سے کوئی تعلق نہیں ۔ مسجد میں بیٹھ کر ، یا مدرسے
یں کوئی میٹنگ بلا کر مذمت کر دیں گے اور کر بھی کچھ نہیں سکتے۔ مسلمانوں کو صبر کی تلقین کر دیں گے ۔ کیونکہ سیاست میں ان کا حصہ نہیں ، جو کہہ انہوں نے اپنی مرضی سے چھوڑا ہوا ہے ، اور سیاست اور انتظامیہ کے اختیارات ہندو اکثریت کو دے رکھے ہیں ۔ ان علماء کے اختیار میں کچھ نہیں ، نہ ہی انتظامیہ ان کی سنتی ہے ،
Hindu Sena , RSS , Bajrang Dal
وغیرہ دھشتگرد تنظیموں کے غنڈے تو ان علماء میں بات کیوں سنیں گے ۔ یو یہ ہندو غنڈے آئے روز مختلف حیلے بہانوں سے ، گائے کے گوشت کے بہانے سے مسلمانوں کی mob lynching کرتے ہی رہتے ہیں ۔ یہ ملاں حضرات پارلیمنٹ میں تو کچھ کر نہیں سکتے۔ اکیلا اسد اویسی پارلیمنٹ میں کتنا چیخے ۔ یہ ملاں حضرات کنویں کے مینڈک کی طرح اپنی محدود اور جہالت کی دنیا میں رہتے ہیں ، ان میں سے اکثر مولانا ہندو سیاسی جماعتوں کے زر خرید غلام بنے ہوئے ہیں ۔ ہر طرح کے الیکشن میں وہ اسد اویسی کی اور اس کی مسلم سیاسی جماعت AIMIM کی مخالفت کرتے ہیں ۔ اس طرح کوئی دوسرا مسلمان جیت کر پارلیمنٹ میں نہیں جاتا ۔ اس طرح مسلمانوں کی بدحالی کی آواز کون اٹھائے گا ؟ مسلمانوں کی موب لینچنگ ، قتل عام کے خلاف قانون کون بنوائے گا ؟ ہر ہندوستانی کو چاہیے اپنی سیاسی جماعت AIMIM کا دل و جان و مال کے ساتھ دے ، ووٹ دے سپورٹ کرے ، انشاء اللہ آئیندہ چند سالوں میں مسلمان سماج کے حالات بہتر ہونے شروع ہو جائیں گے ۔
It is requested please arrange to build / update the websites of all federal and Provincial ministries and departments ; as these ministries / departments are not providing information on web their websites. Nothing about there programs, Jobs details / no active page for feedback. No body bothers to reply to the end user . Even no body from web site reply that your suggestion has reached us etc . A bill must be initiated from your ministry regarding these well formed / updated ministries web sites. It is worth mentioning that website of your ministry is nor updated and complete website. And No body responds on feedback ;;;
Comments