RSS: HINDTUVA mentality against Indian Muslims. RSS: HINDTUVA TERRORISM
1947 کے بعد RSS اور دیگر سنگھٹن BajrangDal, Shiva Sena, VHP, Gao Rakhsha
وغیرہ وغیرہ اور بہت سی ہندو تنظیمیں وجود میں آئیں ۔ ان کا ظاہری مقصد ہندو سماج کی فلاح و بہبود تھا ۔ ان میں سے RSS سمیت کچھ جماعت ہندوستان کی آزادی اور مہاتما گاندھی کے بھی خلاف تھیں ۔ لیکن در پردہ یہ تمام ہندو تنظیمیں مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے خلاف اور ان کو مٹانے کا کام کر رہی ہیں ۔
اکثر ہندو تنظیموں نے اپنے ہندو ممبران کو اپنے دفاع کے نام پر ٹریننگ بھی دی جاتی ہے ۔ پچھلے 75 سال میں ان کی ذھنی تربیت مسلمانوں کے خلاف ہی کی گئی ۔ اور یوں انڈیا میں ہندوؤں کی کئی نسلوں سے مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے خلاف برین واشنگ کی جاتی رہی ۔ جس کے اثرات اب کھل کر سامنے آ گئے ہیں ۔ یہ RSS ذھنیت والے ہندو دھشتگرد آئے روز مسلمانوں کی موب لینچنگ ، مسلم مخالف قوانین بنانا ، تشدد ، مار پیٹ ، قتل وغیرہ کرتے ۔ مسلمان گھروں پر حملے کرتے ۔ خواتین کی بے حرمتی کرتے ہیں ۔مساجد اور مزارات کی توڑ پھوڑ کرتے ۔ مسلم قبرستان پر قبضے۔ گائے کے بہانے مسلمان پر تشدد، قتل عام ، مسلم آبادیوں میں بہت بڑے پیمانے پر ہنگامے کرنا نوبت قتل عام تک آنا ۔ مسلمانوں کی دکانوں کی لوٹ مار ۔ مسلمانوں کے کاروبار کو کسی نہ کسی بہانے سے ختم کرنا تاکہ مسلمان معاشی طور پر بہت کمزور ہو جائیں ۔ ملازمت میں مسلمانوں کا حصہ ٪20 کی بجائے ٪۔ ایک فیصد سے بھی کم رہ گیا ۔
برسرِ اقتدار حکومت RSS ذھنیت وآلی انتظامیہ اور پولیس کے ذریعے مسلم سماج پر بے انتہا تشدد کرتے ہیں ، مسلمانوں کو جیلوں ڈال دیتے ہیں اور تشدد کرتے ہیں ۔ مسلم لڑکیوں کو بہلا پھسلا کر ہندو مذھب میں تبدیل کرنا ، ان سے شادی کرنا ۔ مسلم سماج پر Love Jihad کا الزام لگانا ۔ وغیرہ وغیرہ تو اب عام باتیں ہو گئی ہیں
RSS اور HINDUTAVA تربیت یافتہ
ذھنیت والے ہندو نوجوان قتل و غارتگری ، لوٹ ماراور موب لینچنگ جیسی دھشتگردی کرتے ہیں ۔
دوسری جانب مسلمانوں نے پچھلے 76 سالوں میں نہ ہی اپنی کوئی مضبوط مسلم سیاسی جماعت بنائی ۔ جس سے مسلم نمائندگی پارلیمنٹ میں ہو جاتی ۔ بیرسٹر اسد الدین اویسی نے اپنی پارٹی AIMIM کو الیکشن کے لیے تیار کیا تو بھی مسلم اکثریت نے اس کا ساتھ نہ دیا ۔ اکثر مولانا حضرات بھی ان کے خلاف ہو گئے ۔
ہاں البتہ ہندوستان کے مسلمان ، مذھبی علماء اور مذھبی مدارس کے ہتھے چڑھ گئے ۔ اس کا ایک فائیدہ تو ہوا کہہ اسلامی علوم سے آگہی ہو گئی ۔ لیکن مدارس میں بھی فرقہ وارانہ ماحول بن گیا ۔ یوں مسلمانوں میں اتحاد نہ ہو سکا ۔
ان حالات میں انڈیا کا مسلمان ہندو سیاسی لیڈروں کے ووٹر ہی بن کر رہ گئے ۔ ان ہندو لیڈروں نے مسلمانوں کی فلاح کے کوئی کام نہ کیے ۔ RSS اور دیگر ہندو شدت پسند تنظیموں نے اپنی تعلیمات اور پروگرام کے تحت ، مسلمانوں کو ختم کرنے کے لیے ، ان پر حملے ، موب لینچنگ بڑھا دی۔ مسلمانوں کے پاس اپنے دفاع کے لیے کوئی پروگرام نہیں نہ ہی ان کے ملاؤں ، علماء نے دفاع کی ترغیب دی ، نہ ہی دفاع کی کوئی ٹریننگ دی ۔ بس آئے روز مار کھانے ، خواتین کی بے حرمتی کروانے ، مسجدوں کی بے حرمتی کروانے پر ہی صبر کیا گیا ۔ ملاؤں نے مسلمانوں کو صبر کے بدلے جنت کی نوید سنا دی ۔ یوں مسلمانوں نے مار کھانا بھی ثواب کا کام سمجھ لیا ۔ اور ذھن بنا لیا کہ ظالموں کو دوزخ ملے گی۔ اب اکثر مسلمان انتہائی بزدلی کا ثبوت دیتے ہیں۔ مسلمانوں کو کسی کے ساتھ زیادتی نہیں کرنی چاہئے ۔ لیکن اپنا دفاع ضرور کرنا چاہیے ۔
It is requested please arrange to build / update the websites of all federal and Provincial ministries and departments ; as these ministries / departments are not providing information on web their websites. Nothing about there programs, Jobs details / no active page for feedback. No body bothers to reply to the end user . Even no body from web site reply that your suggestion has reached us etc . A bill must be initiated from your ministry regarding these well formed / updated ministries web sites. It is worth mentioning that website of your ministry is nor updated and complete website. And No body responds on feedback ;;;
Comments